سولر زراعت اور پانی کا بحران: پاکستان کو درپیش سنگین چیلنج
۱. تمہیدی جائزہ
پاکستان ایک نئے قسم کے بحران سے دوچار ہو رہا ہے — سولر توانائی پر مبنی زراعت (Solar Farming) نے جہاں زرعی شعبے میں جدت لائی، وہیں زیرِ زمین پانی کی منڈی پر دباؤ اور پانی کے بحران کو بھی شدت دی ہے۔ 3 اکتوبر 2025 کو ریٹرز کی ایک رپورٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کو زراعت کے لیے بڑھانے سے نہ صرف توانائی کی لاگت کم ہوتی ہے بلکہ کسان بغیر چال underlying پانی استعمال کرنے لگے ہیں، جو کہ مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں نظر آ رہا ہے، جہاں زمین میں پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے اور نہری نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
۲. سولر زراعت کیا ہے؟ اور اس کا مسئلہ
سولر زراعت اس تصور کا حصہ ہے جہاں فصلوں کے لیے توانائی ضرورت کو شمسی پینلز کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے — جیسے پانی کو پمپ کرنا، micro-irrigation سسٹمز، greenhouse controls، وغیرہ۔ یہ نظریہ خود کفیل انویژن ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمسی توانائی استعمال کرنے والے کسان پانی کو عام طریقے سے استعمال کرنے لگے ہیں، یعنی آبپاشی کی مقدار کو کنٹرول نہ کرنا، یا تیز رفتاری سے پانی استعمال کرنا۔
ریٹرز کی رپورٹ کے مطابق، شمسی پمپوں کی دستیابی اور ان کے سبسڈی نے بہت سے کسانوں کو اس رجحان کی طرف مائل کیا ہے۔ مگر اس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ مسلسل گھٹ رہا ہے۔
۳. پانی کی سطح کا زوال
محکمہ موسمیات اور پراجیکٹس پر کام کرنے والی تنظیموں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں پانی کی سطح تقریباً 1–3 فٹ فی سال کی شرح سے نیچے جا رہی ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب اور سندھ میں یہ زوال زیادہ نمایاں ہے۔ ان علاقوں میں سولر پمپ استعمال کرنے والے کسان اپنے کنوؤں اور زیر زمین ذخائر کو مسلسل خالی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک آبي ماہر نے کہا:
“جب آپ پانی کو جلدی نکالیں گے تو وہ ذخیرہ دوبارہ بحال نہیں ہو سکے گا۔ یہ نئی انوویشن اگر بغیر ضابطے کے ہو تو پاکستان کے پانی کا مستقبل خطرے میں ڈال دے گی۔”
۴. کسانوں کی مشکلات
گاؤں کے کسان بتاتے ہیں کہ سولر سسٹمز لینے کے بعد انہیں بجلی کا بل نہیں سوچنا پڑتا، مگر پانی کا بل — یعنی زیر زمین وسائل — وہ خود ادا کر رہے ہیں۔ کچھ کسان شکایت کرتے ہیں کہ:
- کنویں فوراً خشک ہو جاتے ہیں۔
- پڑوسیوں کے کنویں بھی خالی ہو جاتے ہیں، یعنی لاگت بانٹنے کا تصور ختم ہو گیا۔
- زمین کی زرخیزی پر اثر پڑتا ہے کیونکہ مسلسل پانی نکالنے سے نمکیات کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔
ایک نوجوان کسان نے کہا:
“سولر پمپ نے بہت سہولت دی، مگر اب پانی ختم ہو رہا ہے۔ اگر زمین خشک ہو جائے تو ہمیں کیا کرے؟”
۵. حکومتی اور ادارتی ردعمل
وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کر رہی ہیں۔ چند اقدامات یہ تجویز کیے گئے ہیں:
- پانی کے استعمال پر رؤیا بندی قوانین بنانا
- شمسی پمپوں پر سبسڈی کو محدود کرنا
- زیرِ زمین پانی کی مستقل مانیٹرنگ
- کسانوں کو سیکھانا کہ کس قسم کی فصلیں کم پانی میں بھی کامیاب ہوں
- micro-irrigation (ڈرپ، اسپریئنکلر) کو فروغ دینا
ان تنظیموں نے یہ بھی کہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے، NGOs اور زرعی تحقیقی ادارے مل کر سولر زراعت + پانی کی پائیداری کے ماڈیولز بنائیں۔
۶. موسمیاتی تبدیلی اور اس کا اثر
یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایسے چیلنجز درپیش ہیں جہاں renewable energy کے استعمال نے ماحولیاتی وسائل پر دباؤ مزید بڑھایا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات — بڑھتی بارشیں، خشک سالی، درجہ حرارت کی شدت — سب مل کر پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر زمین کی خود ترمیم (recharge) نہ ہو اور پانی نہ بچایا جائے تو آنے والے دو دہائیوں میں پاکستان کے بڑے حصے صحرا بن سکتے ہیں۔
۷. نتیجہ
سولر توانائی پر مبنی زراعت ایک اچھا نظریہ ہے، مگر اس کا غلط استعمال اور پلاننگ سے نقصان ہو رہا ہے۔ اگر پاکستان نے بروقت حکمتِ عملی نہ اپنائی تو یہ نئے توانائی کے دور کے نام پر پانی کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
حکومت، کسان اور معاشرہ سب کو مل کر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا — ورنہ سولر زراعت کی روشنیاں پانی کے اندھیرے میں ڈوب جانے کا باعث بن سکتی ہیں

Comments
Post a Comment