ٹی ایل پی پر پابندی: پاکستان نے شدت پسندی اور ہنگاموں کے بعد سخت اقدام اٹھایا

Pakistani police officers facing civilians during a peaceful protest in Punjab, Pakistan – 2025 local news coverage scene.

 


خبر



اسلام آباد، 23 اکتوبر 2025 — وفاقی کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر Tehreek‑e‑Labbaik Pakistan (TLP) کو ملک گیر سطح پر انسدادِ دہشتگردی قانون (ATA) کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اُس کے سخت گیر احتجاج اور وزارتِ داخلہ کے مطابق “شدت پسندانہ سرگرمیوں” میں ملوث ہونے کی بنیاد پر لیا گیا۔ 


یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا جب لاہور کے مضافاتی علاقے موردیکے میں طے شدہ مارچ کے دوران ہزاروں افراد اور پولیس کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک پولیس افسر اور چار عام شہری ہلاک اور سو سے زائد اہلکار زخمی ہوئے۔ 



احتجاج کی شروعات



واقعہ کی ابتدا 13 اکتوبر کی صبح ہوئی جب TLP کے کارکنان نے مظفرگڑھ سے لاہور جاتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کا آغاز کیا، وہ امریکی سفارتخانے کے سامنے فلسطینیوں کی حمایت میں ریلی کرنا چاہتے تھے۔ ٹریفک کنٹینرز اور پولیس کی جانب سے رکاؤٹیں لگائی گئیں، لیکن کارکنان نے ان پر قابو پا کر سڑکیں بلاک کیں۔ پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، جواب میں مظاہرین نے پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگائی۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ “ٹرک جل گیا، گاڑی تباہ ہوئی اور 112 اہلکار زخمی ہوئے”۔ 



پابندی کا جواز



پنجاب حکومت نے اس واقعے کے بعد وفاقی حکومت کو TLP کے خلاف فوری کارروائی کے لیے سمری بھجوائی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جماعت نے امن و قانون کی خلاف ورزی کی، پولیس اہداف پر حملے کیے اور اشتعال انگیزی کی، لہٰذا اسے ATA کی چوتھی شیڈول میں شامل کیا جائے۔  وفاقی وزیراِعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ TLP کا انجام پہلے بھی 2021 میں اسی طرح کا احتجاجی تشدد تھا، اس بار وہ سابقہ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔ 



پابندی کے اثرات



پابندی کا اعلان ہوتے ہی TLP کے دفاتر سیل کر دیے گئے، سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور جماعت کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔ سپریم کورٹ کے مطابق، اس فیصلے کے خلاف پارٹی کو عدالت میں چیلنج کا حق حاصل ہے، لیکن اس دوران سرگرمیاں منجمد رہیں گی۔ 



ردّعمل



TLP نے حکومتی فیصلے کو “غیر آئینی، سیاسی اور انتقامی” قرار دیا ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ نوجوان رہنما Saad Rizvi کی گرفتاری کے بعد پارٹی کا رابطہ کمزور پڑ گیا ہے؛ پولیس اندرونِ ملک اور آزاد کشمیر میں اس کی تلاش کر رہی ہے۔  دوسری جانب، وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ احتجاجی خاندانوں کو قانونی چارہ جوئی کا موقع دیا جائے گا مگر نظامِ ریاست کی بالادستی اولین ترجیح ہے۔



عوامی اور سیاسی ردّعمل



بیشتر سیاسی جماعتوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ریاست نے قانون کی عملداری کی خاطر ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مشاہدہ کیا ہے کہ  تو احتجاج کرنے کا حق ہے، مگر ریاست کا فرض ہے کہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کی حفاظت کرے۔  



اب آگے کیا؟



اب حکومت کا چیلنج یہ ہے کہ اس پابندی کے باوجود ریاستی ادارے کس طرح امن و امان برقرار رکھیں گے، اور کیا TLP کارکنان سرِ راہ نئے احتجاجی ہتھکنڈے اختیار کریں گے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ جماعتی بنیاد پر سیاسی کارروائی پر پابندی سے کارکنان زیرِ زمین چلے جانے کا خدشہ ہے، جو مزید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔  

Comments

Popular posts from this blog

Pakistan AI Policy 2025: پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز

لاہور میں سیلاب کا خطرہ، شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی” لاہور سیلاب

Pakistan, Saudi Arabia Expand Economic & Defense Partnership 2025