سولر زراعت نے پاکستان کا پانی بحران گہرا کیا
۱. تمہید
پاکستان زرعی انقلاب کا سامنا کر رہا ہے جہاں روایتی ڈیزل اور گرڈ بجلی کے پمپوں کے بجائے ہزاروں کسان شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیو بویلز استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ اقدام ان کے اخراجات کم کرنے کے مقصد سے کیا گیا، لیکن اس نے ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر لی — زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
۲. شمسی زراعت کا عروج
2023 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں تقریباً 30 فیصد تک چاول کی کاشت میں اضافہ ہوا، جبکہ مکہ کی کاشت کم ہوئی ہے کیونکہ کسان زیادہ پانی استعمال کرنے والے فصل کی طرف مائل ہیں۔ نئے شمسی نظام کی وجہ سے کسان دن بھر بار بار آبپاشی کر سکتے ہیں، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔ تقریباً 650,000 شمسی ٹیو بویلز اس وقت ملک میں کام کر رہے ہیں۔
کچھ کسان نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی فصلوں کو دن میں کئی بار پانی دے رہے ہیں — ایک عمل جو صرف شمسی توانائی کی دستیابی سے ممکن ہوا ہے۔
۳. پانی کی سطح کا زوال
پنجاب کے کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح 60 فٹ سے نیچے چلی گئی ہے، جو کہ ملکی محکمہ آبپاشی کے لیے خطرے کی حد ہے۔
یہ زوال 2020 سے 2024 کے درمیان تقریباً 25 فیصد اضافہ کے ساتھ ہوا، اور انتہائی ناہموار مقامات میں زیرِ زمین سطح 80 فٹ سے بھی نیچے پہنچ گئی ہے۔
۴. کسانوں کی مشکلات
کسان محمد علی نے بتایا کہ:
“اب بجلی کے بل اور ڈیزل کا بوجھ کم ہو گیا ہے، مگر پانی ختم ہو رہا ہے۔ زمین تیزی سے خشک ہوتی جا رہی ہے۔”
کئی کسان اپنے کنووں کو چند گھنٹوں بعد خشک پاتے ہیں اور دوبارہ پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
۵. حکومتی موقف
پنجاب اور وفاقی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ شمسی نظام نے برقی توانائی کے اخراجات کم کیے ہیں، اور پانی کا استعمال بدلا نہیں۔
تاہم، دستاویزی شواہد اور کسانوں کی آراء اس تاثر سے اختلاف کرتی ہیں، جو بتاتے ہیں کہ پانی کا استعمال واقعی بڑھا ہے۔
۶. ماہرین اور حل کے راستے
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنا چاہیے:
- ٹیو بویل اور پانی نکالنے والے نظام کی میپنگ اور مانیٹرنگ
- کسانوں کو ایسی فصلیں اگانے کی تلقین جو کم پانی استعمال کریں
- زیر زمین پانی کی بحالی کے منصوبے جیسے aquifer recharge projects
- قانونی حدود اور پالیسیاں بنانا ताकि پانی کا غیر ضروری اخراج روکا جائے
۷. نتیجہ
سولر زراعت نے توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلی لائی ہے، مگر اسے بے قابو استعمال کرنے سے پاکستان کو پانی کا سنگین بحران درپیش ہے۔ اگر ابھی بروقت اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے وقتوں میں فصلوں، معیشت، اور غذائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

Comments
Post a Comment